اعلامیہ (Press Release)

  1.  پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی(PMA)  ،محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کا ایک ذیلی ادارہ ہے جو ۲۰۱۲ء میں اپنے قیام سے اب تک لاہور ، راولپنڈی /اسلام آباد اور ملتان میں چلنے والے اپنے چھ ماس ٹرانزٹ سسٹمز کے ذریعے ایک ارب چالیس کروڑ سے زاید افراد کو ٹرانسپورٹ سہولیات فراہم کر چکا ہے ۔ وزیر اعلٰی پنجاب اتھارٹی کے چیئرپرسن ہونے کے باوصف تمام انتظامی اور مالی معاملات کے نگران ہوتے ہیں اور اتھارٹی کے ان اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں جن میں تمام انتظامی و مالی امور زیرِبحث آتے ہیں ۔
  2.  صوبائی حکومت عوام النّاس خصوصاً کم آمدنی والے غریب اور محروم طبقات کی سفری سہولت میں مدد کے لیے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے ذریعے سالانہ ایک خطیر رقم خرچ کرتی ہے ۔ اتھارٹی اپنے چھ ماس ٹرانزٹ سسٹمز پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ۴۵  سے زاید معاہدات (Contracts) کے ذریعےصفائی ، سیکیورٹی ، آئی ٹی ، ٹرانزٹ و دیگر متعلقہ  خدمات اوپن مارکیٹ سے حاصل کرتی ہے جسے آؤٹ سورسنگ (Outsourcing)ماڈل کہا جاتاہے ۔
  3.  لاہور میں چلنے والی گرین اور اورنج لائن کے اسٹیشنز پر صفائی کے کام کا کنٹریکٹ میسرز ایس ای ایم سی (SEMC )نے ۲۰۲۳ ء میں حاصل کیا اور کمپنی اپنے سینٹری سٹاف اور مشینری کے ذریعے ان دونوں نظام ہائے کے ۵۰ سے زاید اسٹیشنز اور بس کوریڈور پر صفائی کے کام کی ذمہ دار ہے ۔ کمپنی کا تمام سٹاف کُلّی طور پر کمپنی مذکور کی اپنی ذمہ داری ہے اور چونکہ ان دونوں اکائیوں میں سے نہ تو کمپنی سرکاری ملکیت ہے اور نہ سٹاف پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی ملازمت میں ہوتا ہے اس لیے قانوناً اور تاکیداً  پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی خود کو معاہدہ (Contract) کی حدود وقیود تک محدود رکھتی ہے اور کمپنیوں کے داخلی نظامِ کار اور آجر و اجیر (Employer and Employee ) کی باہمی افہام و تفہیم اور ان کے نجی معاہدوں میں کسی بھی طرح دخِیل نہیں ہو سکتی ۔
  4.  گزشتہ کچھ دِنوں سے میسرز ایس ای ایم سی (SEMC) کے اپنے ملازمین تنخواہوں کی تاخیر سے تقسیم ، کٹوتی اور جزا و سزا کے داخلی نظام کے خلاف اپنی انتظامیہ خصوصاًکمپنی مالک  مسٹر نوید ایوب کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مذکورہ احتجاج کی خبر نگاری (coverage) کے دوران  بعض اخبارات اور ٹی وی چینلز کے ذریعے کچھ  اس طرح کا تاٌثر دینے کے کوشش کی جارہی ہے کہ جیسے مذکورہ ملازمین PMA کا سٹاف ہیں اورPMA انتظامیہ  انہیں ان کی تنخواہیں ادا نہیں کررہی ۔ حقائق کے بر خلاف ، غیر ذمہ دارانہ اور بد نیتی پر مشتمل ایسی یکطرفہ رپورٹنگ نہ صرف سنجیدہ اور باوقار صحافتی اقدار کے خلاف ہے بلکہ دن رات عوامی خدمت بجالانے والے سرکاری ملازمین کے حوصلے پست کرنے ، انہیں عوام الناس کی نظروں میں بے وقار کرنے اورنجی کمپنی ملازمین کو سرکاری اداروں اور ان کے اہل کاروں کے خلاف بے جااحتجاج اور تشّدد پر اکسانے کی مذموم کوشش ہے ۔
  5.   پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی ایسی کسی بھی کوشش ،  غیر ذمہ دارانہ ، گمراہ کن اور  حقائق کے منافی خبر  کو سختی سے مسترد کرتی ہے ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پی ایم اے کی طرف سے مذکورہ کمپنی کے علاوہ افرادی قوت رکھنے والی دیگر کمپنیوں  کو ماہ مئی اور جون کی تنخواہوں کی مکمل ادائی ہو چکی ہے اور اس بابت مکمل تحریری دستاویزات موجود ہیں جو غلط تاثر پھیلانے کی مذکورہ کوششوں اور پراپیگنڈہ  کو باطل ثابت کرتی ہیں ۔  
  6. تاہم کمپنی ملازمین کی مشکلات کے پیش نظر پی ایم اے نے ڈائریکٹر لیبر لاہور سے SEMC اور دیگیر کمپنیوں کی طرف سے لیبر قوانین کی مبیّنہ خلاف ورزیوں کی شکایات کافوری  جائزہ لینے کی از خود گزارش کی ہے کیونکہ اس معاملے میں تمام تر انتظامی اور عدالتی اختیارات محکمہ محنت اور افرادی قوّت اور متعلقہ لیبر عدالت کو حاصل ہیں۔